بنگلورو۔26؍نومبر(ایس او نیوز) آنے والے دنوں میں ریاست کے عوام اور کسانوں کو بجلی کی ترسیل میں کسی طرح کی رکاوٹ نہ ہونے پائے اس کیلئے حکومت کی طرف سے ضروری قدم اٹھائے جائیں گے اور ہنگامی طور پر لوڈ شیڈنگ کو روکنے کیلئے ضرورت پڑی تو بیرونی ذرائع سے بجلی کی خریداری کی جائے گی۔ یہ بات آج وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار نے کہی، وزیر اعلیٰ سدرامیا کی طرف سے محکمۂ توانائی کے پیش رفت کے جائزہ کیلئے منعقدہ میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاست میں خشک سالی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ جس کی وجہ سے آبپاشی پمپ سیٹوں کیلئے بجلی کی مانگ میں اضافہ ہوچکا ہے۔گرمیوں کی شروعات کے ساتھ ہی اس صورتحال میں اور بھی بگاڑ کے اندیشے ہیں۔ اسی سلسلے میں آج وزیراعلیٰ سدرامیا نے اعلیٰ عہدیداروں کے ہمراہ تبادلۂ خیال کیا۔ وزیر موصوف نے بتایاکہ شکر کے کارخانوں سے 500میگاواٹ بجلی خریدنے کیلئے معاہدہ ہوچکا ہے۔ دیگر ذرائع سے بھی بجلی کی خریداری کیلئے حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ مجموعی طور پر حکومت کا منشاء یہی ہے کہ گرمیوں کے دوران بجلی کی قلت کے سبب کسانوں اور عوام کو کسی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا نہ پڑے۔وزیر موصوف نے کہاکہ بلگام میں رواں لیجسلیچر اجلاس میں بھی ریاست میں بجلی کی صورتحال پر بحث ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ رائچور، بلاری اور یرمراس تھرمل پاور پلانٹس کی صورتحال اور یہاں بجلی کی پیداوار میں تعطل وغیرہ پر بھی آج سدرامیا کے ہمراہ تفصیلی بات چیت کی گئی اور ان پراجکٹوں میں حائل مشکلات کو فوراً نمٹانے کیلئے ضروری قدم اٹھانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے مرکزی حکومت کی طرف سے پانچ سو اور ہزار روپیوں کے نوٹوں پر پابندی کے فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیا اورکہاکہ اچانک اس طرح سے نوٹوں پر پابندی کی وجہ سے نہ صرف ریاست کرناٹک بلکہ ملک بھر کی معاشی صورتحال پر بہت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔خاص طور پر مزدور طبقہ اور عوام کو اس سے پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کے اس اقدام کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں میں اتحاد ایک خوش آئند امر ہے۔